MOJ E SUKHAN

خواہشوں کا غبار تھم جائے

خواہشوں کا غبار تھم جائے
اب مرا انتظار تھم جائے

پھیلتے اک سراب کی صورت
حالتِ بے کنار تھم جائے

اب نظر آئے خواب کی منزل
نیند کا انتشار تھم جائے

سبز رت سے اگر علاقہ نہیں
سرمئی سا حصار تھم جائے

حرفِ انکار سے پرے تسنیم
میرے لب پر قرار تھم جائے

سیدہ تسنیم بخاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم