خود سے کتنا بھاگ رہے ہو ؟
چار بجے تک جاگ رہے ہو
آنکھوں سے بھی ڈس لیتے ہو
پچھلے جنم میں ناگ رہے ہو؟
بجھتی آنکھیں جل اٹھتی ہیں
تم تو دیپک راگ رہے ہو
سارے موسم ایک سے تم بن
ہر موسم میں آگ رہے ہو
دل کی خلش کی خاطر ابتک
خواہشِ دل سے بھاگ رہے ہو
سہیل ضرار خلش