MOJ E SUKHAN

دریا رکا ہوا تھا مگر میں سفر میں تھا

غزل

دریا رکا ہوا تھا مگر میں سفر میں تھا
اک روشنی کا عکس بھی میرے ہنر میں تھا

اوڑھا ہوا تھا سچ کا لبادہ وجود نے
لیکن شعور جھوٹ کے اندھے نگر میں تھا

ہر راستے کی دھول پروں میں سمیٹ کر
انجان منزلوں کا پرندہ سفر میں تھا

بازار میں تھی ہنستے چراغوں کی روشنی
بجھتے ہوئے دیے کا دھواں میرے گھر میں تھا

کندہ تھا خواہشوں کا فسانہ فصیل پر
زندہ حقیقتوں کا لہو اک کھنڈر میں تھا

اتری تھی رات شہر میں آنسو لیے ہوئے
اک قافلہ سحر کا کہیں رہ گزار میں تھا

طاہرؔ مرے وجود کی بولی تو دے گیا
شاید وہ اپنی ذات کے نیلام گھر میں تھا

طاہر حنفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم