MOJ E SUKHAN

دشت میں زندگی گزاری ہے

دشت میں زندگی گزاری ہے
اس لیے عشق میرا کھاری ہے

ایک دھڑکن جو اب بھی جاری ہے
تیری آمد کی انتظاری ہے

رشک سے آ ئنہ تو ٹوٹ گیا
اب مرے حو صلے کی باری ہے

جان بخشی تو اب نہیں ہوگی
ہر پرندہ یہاں شکاری ہے

تم نے ڈالی سے نوچ لیں کلیاں
ہم نے پھولوں پہ جان واری ہے

زخم تلوار کا تو بھر بھی گیا
بات کا تیری گھاؤ کاری ہے

یہ کرامت ہے ہم فقیروں کی
مے کدوں میں جو غم گساری ہے

کون آسیب بن کے آیا ہے
خوف دیوار و در پہ طاری ہے

دن تری یاد میں کٹا عابد
رات سپنوں میں پھر گزاری ہے

حنیف عابد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم