دلوں میں درد کی دولت ہے چشم تر بھی تو ہو
دعائے نیم شبی میں کوئی اثر بھی تو ہو
کبھی تو گردش دوراں کو بھی مزاج ملے
کسی نگر کسی کوچے میں کوئی گھر بھی تو ہو
وفورِ شوق سے مجھ کو بلا رہے ہو تو پھر
ملن کی رات ہو تاروں کی رہ گزر بھی تو ہو
سراب رستوں کے سب خواب تیرے نام کروں
غموں کی دھوپ میں تُو سایہ شجر بھی تو ہو
خرد نے اہل جنوں کو نگل لیا ہے مراد
سبھی کے ہاتھ میں پتھر ہیں کوئی سر بھی تو ہو
شفیق مراد