دل بھی تو کبھی اپنا ٹھکانے پہ نہیں تھا
یوں ہی تو مرا سر مرے شانے پہ نہیں تھا
آمد پہ مری، آنکھ کے آنسو نے بتایا
اتنا تو وہ رویا مرے جانے پہ نہیں تھا
کل رات مہکتا رہا بستر دم خلوت
اس پھول سے جو میرے سرہانے پہ نہیں تھا
جس رنگ محبت میں ڈھلا ہے ترا پیکر
ایسا تو کوئی رنگ زمانے پہ نہیں تھا
بیٹی بھی مری، میری ہی طینت پہ گئی ہے
بیٹا بھی مرا اس کے گھرانے پہ نہیں تھا
جب رونا مقدر ہے تو شکوہ نہیں اس سے
موقوف مجھے وہ تو ہنسانے پہ نہیں تھا
بننا تھا مجھے اُس کا حدف اس لیے شاید
اک تیر مرا اپنے نشانے پہ نہیں تھا
ہم نے بھی نہیں روکا دل و جان سے اسکو
اور آج مُصِر وہ بھی تو جانے پہ نہیں تھا
خود سر ہے تو خود دار بھی سیما کی طبیعت
راضی وہ تبھی اس کو منانے پہ نہیں تھا
عشرت معین سیما