MOJ E SUKHAN

دل لگا بیٹھا ہوں اس عیار سے

غزل

دل لگا بیٹھا ہوں اس عیار سے
جس کو نفرت ہے وفا سے پیار سے

دیکھیے ہم کس قدر ہیں بے نیاز
کچھ نہ مانگا حسن کی سرکار سے

اے نگاہ ناز تیرا شکریہ
مطمئن ہے دل تری گفتار سے

کس لئے ہوں زندگی سے بد گماں
کاش وہ پوچھے کسی دن پیار سے

زندگی بھی ہم سے ہے بیزار سی
زندگی سے ہم بھی ہیں بیزار سے

ہر بشر کے واسطے ہے لازمی
کام لے شیرینئ گفتار سے

آپ کی خاطر ہوئے برباد ہم
آپ بھی ہیں ہم سے کچھ بیزار سے

دوستی ان سے نبھے گی کس طرح
میں ہوں دیوانہ تو وہ ہوشیار سے

غیر تو پھر غیر ہیں عاصیؔ مگر
آپ بھی کچھ کم نہیں اغیار سے

پنڈت ودیا رتن عاصی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم