MOJ E SUKHAN

دکھ تو دیتا ہے کروں میں تجھ کو حیراں تو سہی

غزل

دکھ تو دیتا ہے کروں میں تجھ کو حیراں تو سہی
باغباں اب کے اجاڑے تو گلستاں تو سہی

ابر میں دیتا نہیں تو مجھ کو اے ساقی شراب
میں کروں شیشہ کو تیرے سنگ باراں تو سہی

اب تو ناصح کے تئیں سینے دو میرا چاک جیب
تار تار اس ضد سے کر دوں میں گریباں تو سہی

لوگ کب خاطر میں لاتے ہیں مرے ویرانے کو
اشک خوں سے باغ کر ڈالوں بیاباں تو سہی

اپنے بندوں کو جلا کر خاک کرتے ہیں یقیںؔ
ان بتوں کی ضد سے ہو جاؤں مسلماں تو سہی

انعام اللہ خاں یقیں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم