MOJ E SUKHAN

دھمال کرتے ہوۓ اور ہاوہو کرتے

دھمال کرتے ہوۓ اور ہاوہو کرتے
گزر رہے ہیں ترا زکر کو بہ کو کرتے

زرا سی دھوپ کی خواہش میں ہم ٹھہر جاتے
جمالِ عشق کے سائے سے گفتگو کرتے

وہ سرخ دھاگے کی الجھن بڑھانے لگتی ہے
ہم اپنے دکھ کی یہ لیریں کہاں رفو کرتے

عجب سرور ہے تازہ رکھا ہوا جس کو
ہماری عمر کٹی تیری جستجو کرتے

ہمارا ظرف ہماری طلب پہ بھاری تھا
یہ آرزو ہی رہی جرمِ آرزو کرتے

وہ مجھ سے آنکھ ملاتے کبھی سرِ محفل
کبھی تو عشق زمانے کے روبرو کرتے

یہ میرا شعر یہ میری غزل ہے عطر بشؔر
زرا سی دیر لگی عمر مشکبو کرتے

مبشر سلیم بشؔر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم