MOJ E SUKHAN

دیکھیے اہل محبت ہمیں کیا دیتے ہیں

دیکھیے اہل محبت ہمیں کیا دیتے ہیں
کوچۂ یار میں ہم کب سے صدا دیتے ہیں

روز خوشبو تری لاتے ہیں صبا کے جھونکے
اہل گلشن مری وحشت کو ہوا دیتے ہیں

منزل شمع تک آسان رسائی ہو جائے
اس لیے خاک پتنگوں کی اڑا دیتے ہیں

سوئے صحرا بھی ذرا اہل خرد ہو آؤ
کچھ بہاروں کا پتا آبلہ پا دیتے ہیں

مجھ کو احباب کے الطاف و کرم نے مارا
لوگ اب زہر کے بدلے بھی دوا دیتے ہیں

ساتھ چلتا ہے کوئی اور بھی سوئے منزل
مجھ کو دھوکا مرے نقش کف پا دیتے ہیں

زندگی مرگ مسلسل ہے مگر اے تابشؔ
ہائے وہ لوگ جو جینے کی دعا دیتے ہیں

تابش دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم