MOJ E SUKHAN

ذرا مشکل سے سمجھیں گے ہمارے ترجماں ہم کو

ذرا مشکل سے سمجھیں گے ہمارے ترجماں ہم کو
ابھی دہرا رہی ہے خود ہماری داستاں ہم کو

کسی کو کیا خبر پتھر کے پیروں پر کھڑے ہیں ہم
صداؤں پر صدائیں دے رہے ہیں کارواں ہم کو

ہم ایسے سورما ہیں لڑ کے جب حالات سے پلٹے
تو بڑھ کے زندگی نے پیش کیں بیساکھیاں ہم کو

سنبھالا ہوش جب ہم نے تو کچھ مخلص عزیزوں نے
کئی چہرے دیئے اور ایک پتھر کی زباں ہم کو

اٹھا ہے شور خود اپنے ہی اندر سے مگر اکثر
دہل کے بند کر لینا پڑی ہیں کھڑکیاں ہم کو

ہم اپنے جسم میں بکھرے ہوئے ہیں ریت کی صورت
سمیٹیں گی کہاں تک زندگی کی مٹھیاں ہم کو

بچھڑ کے بھیڑ میں خود سے حواسوں کا وہ عالم تھا
کہ منہ کھولے ہوئے تکتی رہیں پرچھائیاں ہم کو

عزیز بانو دراب وفا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم