غزل
رات وہ رات سے زیادہ تھی
بات بھی بات سے زیادہ تھی
کل مری اضطرابی کیفیت
میرے حالات سے زیادہ تھی
اس کی آنکھوں میں وصل کی خواہش
میرے جذبات سے زیادہ تھی
راکھ بھیجی تھی اس نے تحفے میں
پر وہ سوغات سے زیادہ تھی
وہ جو خیرات اس نے دی تھی مجھے
سب کی خیرات سے زیادہ تھی
آج کے انتظار کی مدت
پہلے دن رات سے زیادہ تھی
وہ اجازت جو اس نے دی تھی مجھے
میری اوقات سے زیادہ تھی
بھیڑ میرے مزار پر محسن
اس کی بارات سے زیادہ تھی
محسن اسرار