MOJ E SUKHAN

رات وہ رات سے زیادہ تھی

غزل

رات وہ رات سے زیادہ تھی
بات بھی بات سے زیادہ تھی

کل مری اضطرابی کیفیت
میرے حالات سے زیادہ تھی

اس کی آنکھوں میں وصل کی خواہش
میرے جذبات سے زیادہ تھی

راکھ بھیجی تھی اس نے تحفے میں
پر وہ سوغات سے زیادہ تھی

وہ جو خیرات اس نے دی تھی مجھے
سب کی خیرات سے زیادہ تھی

آج کے انتظار کی مدت
پہلے دن رات سے زیادہ تھی

وہ اجازت جو اس نے دی تھی مجھے
میری اوقات سے زیادہ تھی

بھیڑ میرے مزار پر محسن
اس کی بارات سے زیادہ تھی

محسن اسرار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم