MOJ E SUKHAN

راہ میں انتظار مت کیجئے

راہ میں انتظار مت کیجئے
درد کو بے وقار مت کیجئے

جائیے پھول لے کے قبروں پر
زندہ لوگوں سے پیار مت کیجئے

چین کیا چیز ہے بھلا دوں میں
اسقدر بے قرار مت کیجئے

کھائیے مت, فریب پھولوں سے
خود کو وقفِ بہار مت کیجئے

لوگ کہتے ہیں ٹھیک کہتے پیں
آپ لوگوں سے پیار مت کیجئے

دل کی باتوں کا اعتبار نہیں
مجھ سے قول و قرار مت کیجئے

آسماں سے ہٹائیے سیڑھی
دشت کشتی میں پار مت کیجئے

اپنے اندر سے پھوٹئے, صاحب
شاخ کو داغ دار مت کیجئے

کچھ تو رکھئیے بچا کے دامن میں
سب ہی نذرِ بہار مت کیجئے

شائستہ سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم