سنا ہے پیار کا دکھ جان لے کے ٹلتا ہے
سنا ہے درد کا طوفاں اجاڑ دیتا ہے
وہ بستیاں جو محبت کے دیوتاوں نے
دلوں میں اپنے کرم سے بسائی ہوتی ہیں
جفا گروں کو بھلا کیا خبر کے دکھ کیا ہے
جو عشق کرتے ہیں وہ جاں پہ کھیل جاتے ہیں
وہ درد پیار کا تحفہ سمجھ کے لیتے ہیں
دئیے ہواوں کی زد پر جلانے والے لوگ
دئیوں کے بجھنے پہ خود کو جلانے لگتے ہیں
سنا ہے پیار سمندر میں ڈوبنے والے
کنارے لگنے کی خواہش کیا نہیں کرتے
سراپا پیار نہ ہوتی تو جی رہی ہوتی
وہ بے قرار نہ ہوتی تو جی رہی ہوتی
جفائیں سہنے کی عادت میں مبتلا عورت
وفا شعار نہ ہوتی تو جی رہی ہوتی
خدا نصیب کرے اس کو دائمی راحت
خدا کے پیاروں میں اس کا بھی نام شامل ہو
تمام حوریں بھی جنت کی اس پہ رشک کریں
خدا کے گھر میں اسے وہ مقام حاصل ہو
ہالہ