MOJ E SUKHAN

زباں ہے گنگ مری اور ہاتھ لرزیدہ

زباں ہے گنگ مری اور ہاتھ لرزیدہ
مگر یہ دل ہے تپیدہ، تو چشم نم دیدہ

ثنائے لختِ دلِ مصطفیٰ ہے پیشِ نظر
تمام حرف مودب ہیں، لفظ گرویدہ

مثالِ بلبلِ بے تاب میں طواف کناں
وہ گل ستانِ محمد کا اک گلِ چیدہ

مثالِ حیدرِ صفدر شجاعتیں تیری
ہیں تیری تاب سے شامی تمام رم دیدہ

سوارِ دوشِ محمد حسین ابنِ علی
یہ کیا ستم ہے ہُوا خاک و خوں میں غلطیدہ

حسنؔ یزید پہ سب لعنتیں تمام ہوئیں
یہ بات اہلِ نظر سے نہیں ہے پوشیدہ

(حسن نظامی)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم