زندگی چھوڑ کر کھڑے ہوئے ہیں
ہم اُسی موڑ پر کھڑے ہوئے ہیں
اِک دعا ہے جو مانگنی ہے ہمیں
در پہ با چشمِ تر کھڑے ہوئے ہیں
سحر ہے ، بد دعا ہے یا ہے نظر
سب شجر بے ثمر کھڑے ہوئے ہیں
ایک چکر ہے پاؤں میں ایسا
راستے میں سفر کھڑے ہوئے ہیں
روشنی فرش پر بچھی ہوئی ہے
عکس دیوار پر کھڑے ہوئے ہیں
جانتے ہیں نہ کھل سکے گا کبھی
ایک در پر ، مگر کھڑے ہوئے ہیں
لوٹ جائیں کہ راستا بدلیں
راہ میں راہ بر کھڑے ہوئے ہیں
حمیرا راحت