غزل
سانولی دھوپ سرمئی موسم
پھر وہی ہم ہیں پھر وہی موسم
خیر ہو سائبان گم گشتہ
جھیلنے پڑ گئے کئی موسم
داستان تضاد ہے گویا
شہر خوباں سمندری موسم
ہم نے اپنی بیاض میں لکھے
دل پہ بیتے ہوئے سبھی موسم
اک تعلق ہے عارضی یعنی
موسم گل ہے عارضی موسم
دل فگاروں کو کون سمجھائے
لوٹتے کب ہیں مخملی موسم
بشریٰ مسعود