MOJ E SUKHAN

سب نہیں کچھ بش کی صورت میں نمایاں ہو گئیں

سب نہیں کچھ بش کی صورت میں نمایاں ہو گئیں
باقی ساری جھاڑیاں نظروں سے پنہاں ہو گئیں

چوتھی شادی کرتے ہی وہ چار کاندھوں پر چلا
مشکلیں اتنی پڑیں اس پر کہ آساں ہو گئیں

یونہی نا انصافیاں ہوتی رہیں تو ایک دن
دیکھنا ان بستوں کو تم جو ویراں ہو گئیں

ہاتھ اس کا دیکھنے کی اک ذرا کوشش جو کی
سب لکیریں ہاتھ کی گالوں پہ چسپاں ہوگئیں

واہ رے اے پارلر بیوٹی کے ہے تیرا کمال
کالی کالی شکل والی ماہِ تاباں ہو گئیں

دیکھ کر مصنوعی چہروں کو یہ حوا زادیاں
کچھ پریشاں ہو گئیں اور کچھ پری شاں ہو گئیں

مرد شاعر تھے تو تھے لیکن بیچاری شاعرات
گائیکی کے شوق میں کتنی غزل خواں ہو گئیں

میری قسمت دیکھیے دو بول کہنے کے عیوض
ایک تھی مس وہ مسز صفدر علی خاں ہو گئیں

یونہی گر انشا غزل پڑھتے رہے کچھ دیر میں
دیکھنا ان کرسیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں

صفدر علی خان انشا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم