MOJ E SUKHAN

سب کا دل دار ہے دل دار بھی ایسا ویسا

سب کا دل دار ہے دل دار بھی ایسا ویسا
اک مرا یار ہے اور یار بھی ایسا ویسا

دشمن جاں بھی نہیں کوئی برابر اس کے
اور مرا حاشیہ بردار بھی ایسا ویسا

بے تعلق ہی سہی اس کو مگر ہے مجھ سے
اک سروکار سروکار بھی ایسا ویسا

اس کا لہجہ کہ بہت سادہ و معصوم سہی
ہے فسوں کار فسوں کار بھی ایسا ویسا

ذوقؔ سے اس کو عقیدت ہے کہ اللہ اللہ
اور غالبؔ کا طرف دار بھی ایسا ویسا

کیا زمانہ تھا کہ جب اہل ہوس کے نزدیک
کوئی معیار تھا معیار بھی ایسا ویسا

میں بھی تمثیل نگاری میں بہت آگے تھا
وہ بھی فن کار تھا فن کار بھی ایسا ویسا

کوئی افتاد پڑی تھی کہ ابھی تک چپ تھا
اک سخن کار سخن کار بھی ایسا ویسا

ایک تھی جرأت انکار کہ ایسی ویسی
ایک دربار تھا دربار بھی ایسا ویسا

جس کا شاہوں کی نظر میں کوئی کردار نہ تھا
ایک کردار تھا کردار بھی ایسا ویسا

ایک اصرار تھا اصرار بھی بیعت کے لیے
ایک انکار تھا انکار بھی ایسا ویسا

جاوید صبا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم