MOJ E SUKHAN

ستارے

یاد ہے پہلے روز کہا تھا
پھر نہ کہنا غلطی دل کی
پیار سمجھ کے کرنا لڑکی
پیار نبھانا ہوتا ہے
پھر پار لگانا ہوتا ہے
یاد ہے پہلے روز کہا تھا
ساتھ چلو تو پورے سفر تک
مر جانے کی اگلی خبر تک
سمجھو یار خدا تک ہو گا
سارا پیار وفا تک ہوگا
پھر یہ بندھن توڑ نہ جانا
چھوڑ گئے تو پھر نہ آنا
چھوڑ دیا جو تیرا نہیں ہے
چلا گیا جو میرا نہیں ہے
یاد ہے پہلے روز کہا تھا
یا تو ٹوٹ کے پیار نہ کرنا
یا پھر پیٹھ پے وار نہ کرنا
جب نادانی ہو جاتی ہے
نئی کہانی ہو جاتی ہے
نئی کہانی لِکھ لاؤں گا
اگلے روزمیں بِک جاؤں گا
تیرے گُل جب کھل جائیں گے
مجھ کو پیسے مِل جائیں گے
یاد ہے پہلے روز کہا تھا
بچھڑ گئے تو موج اڑانا
واپس میرے پاس نہ آنا
جب کوئی جا کر واپس آئے
روئے تڑپے یا پچھتائے
میں پھر اس کو ملتا نہیں ہوں
ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں
گُم جاتا ہوں،کھو جاتا ہوں
میں پتھر کا ہو جاتا ہوں
یاد ہے پہلے روز کہا تھا

خلیل الرحمان قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم