MOJ E SUKHAN
No Record Found
سجے ہوئے بام و در سے آگے کی سوچتا ہوںمیں گھر بنا کر بھی گھر سے آگے کی سوچتا ہوں
کہیں اندھیرے میں جا بسوں گا چراغ بن کرمیں تیرے شمس و قمر سے آگے کی سوچتا ہوں
تجھے سمندر سے کچھ نہیں اور لینا دینامگر میں لعل و گہر سے آگے کی سوچتا ہوں
شمشیر حیدر
یہ لوگ پھول نہیں رکھتے اب کتابوں میں
ہر ایک بات میں اک طرز کج ادائی کی
اپنے ہی دم سے ہے چرچا کفر اور اسلام کا
دھند میں ڈوبی ساری فضا تھی اس کے بال بھی گیلے تھے
اس سے مل کر ہوئی مخمور زلیخا کی طرح
آگے پہنچاتےتھے واں تک خط وپیغام کو دوست
ہو چکا ہوں بہت خفا خود سے
تمنا ہے کسی کی تیغ ہو اور اپنی گردن ہو
سطح بیں تھے، سب رہے باہر کی کائی دیکھتے
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے