MOJ E SUKHAN

سحاب سبز نہ طاؤس نیلمیں لایا

غزل

سحاب سبز نہ طاؤس نیلمیں لایا
وہ شخص لوٹ کے اک اور سر زمیں لایا

عطا اسی کی ہے یہ شہد و شور کی توفیق
وہی گلیم میں یہ نان بے جویں لایا

اسی کی چاپ ہے اکھڑے ہوئے کھڑنجے پر
وہ خشت و خواب کو بیرون ازمگیں لایا

وہ پیش برش شمشیر بھی گواہی میں
کف بلند میں اک شاخ یاسمیں لایا

کتاب خاک پڑھی زلزلے کی رات اس نے
شگفت گل کے زمانے میں وہ یقیں لایا

افضال احمد سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم