MOJ E SUKHAN

سنہرے خوابوں کی مثل نیندوں میں پل چکا ہوں

سنہرے خوابوں کی مثل نیندوں میں پل چکا ہوں
چراغ بن کر میں ان کی آنکھوں میں جل چکا ہوں

جو چھوٹا موٹا سا زخم ہوتا تو سل بھی جاتا
مگر میں کار رفو سے آگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نکل چکا ہوں

اک ایسی رہ پر کہ جس کی منزل کوئی نہیں تھی
میں ایک ٹھوکر پہ اپنا رستہ۔۔۔ بدل چکا ہوں

میں اس کی شوخی و خوش مزاجی کو عشق جانا
بہک گیا تھا ذرا سا۔۔۔۔۔ پر اب سنبھل چکا ہوں

تھےدھندلے دھندلے۔۔۔۔ فریب دیتے ہوئے مناظر
ہے صاف منظر اب اپنی آنکھوں کو مل چکا ہوں

تھی خوش خیالی۔۔۔۔۔۔ وجود اپنا بچا گیا میں
حقیقتاً اب اسی کے پیکر میں۔۔۔ ڈھل چکا ہوں

کہا یہ گوہر سے۔۔۔۔۔۔۔۔ جاؤ تم کو بھلا چکے ہم
یقین کرلوں۔۔ کہ ان کے دل سے نکل چکا ہوں

اقبال گوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم