MOJ E SUKHAN

سوچ میں ڈوبا ہوا ہوں عکس اپنا دیکھ کر

غزل

سوچ میں ڈوبا ہوا ہوں عکس اپنا دیکھ کر
جی لرز اٹھا تری آنکھوں میں صحرا دیکھ کر

پیاس بڑھتی جا رہی ہے بہتا دریا دیکھ کر
بھاگتی جاتی ہیں لہریں یہ تماشا دیکھ کر

ایک دن آنکھوں میں بڑھ جائے گی ویرانی بہت
ایک دن راتیں ڈرائیں گی اکیلا دیکھ کر

ایک دنیا ایک سائے پر ترس کھاتی ہوئی
لوٹ کر آیا ہوں میں اپنا تماشا دیکھ کر

عمر بھر کانٹوں میں دامن کون الجھاتا پھرے
اپنے ویرانے میں آ بیٹھا ہوں دنیا دیکھ کر

ساقی فاروقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم