MOJ E SUKHAN

سچ کی خاطر بتا تو لڑا ہے کبھی

غزل

سچ کی خاطر بتا تو لڑا ہے کبھی
حق پہ رہ کر قدم بھر چلا ہے کبھی

کیوں کمی تیری محسوس ہوگی مجھے
ساتھ میرے کہاں تو رہا ہے کبھی

مجھ سے پہلے بھی تو ہوں گے ناقص یہاں
شور اتنا مگر کیا مچا ہے کبھی

ہو کے آزاد بھی میں تو ہوں قید میں
پر کٹا کر پرندہ اڑا ہے کبھی

تو کیا جانے بکھرنے میں کیا لطف ہے
راہ میں یار کی تو بچھا ہے کبھی

جھوٹ چلتا رہا سر کو اونچا کیا
سچ بھلا کیا کسی کو دکھا ہے کبھی

جس کو پڑھ کر زمانہ سنورنے لگے
شعر ایسا حناؔ کیا کہا ہے کبھی

حنا عباس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم