MOJ E SUKHAN

شناسائی کا سلسلہ دیکھتی ہوں

شناسائی کا سلسلہ دیکھتی ہوں
یہ تم ہو کہ میں آئنا دیکھتی ہوں

ہتھیلی سے ٹھنڈا دھواں اٹھ رہا ہے
یہی خواب ہر مرتبہ دیکھتی ہوں

بڑھے جا رہی ہے یہ روشن نگاہی
خرافات ظلمت کدہ دیکھتی ہوں

مرے ہجر کے فیصلے سے ڈرو تم!
میں خود میں عجب حوصلہ دیکھتی ہوں

فریحہ نقوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم