Shahd Main Doobay Hoyee Karway Karellay Mustarid
غزل
شہد میں ڈوبے ہوئے کڑوے کریلے مسترد
جو بھی کہیے صاف کہیے، پیچ، لچھے ، مسترد
چپے چپے پر اگائیں گے محبت کے گلاب
نفرتوں کے روڑے، پتھر، کیل ،کانٹے مسترد
دین بازی اور شئے ہے، دین داری اور چیز
دین کے جُبّے میں لپٹے ڈھونگ سارے مسترد
جن کی بنیادیں غرض کی ریت پر رکھی گئیں
اس طرح کے سب تعلق، رشتے ناتے مسترد
چاپلوسی اور خوشامد سے عبارت جو بھی ہیں
صاف کہتی ہے تبسؔم یہ شمارے مسترد
تبسؔم اعظمی
Tabasum Aazmi