MOJ E SUKHAN

صحرا میں جو دیوانے سے باد صبا الجھی

صحرا میں جو دیوانے سے باد صبا الجھی
ہر موج گل تر سے وہ زلف دوتا الجھی

الزام نہیں تجھ پر اے بادیہ پیمائی
دیوانے کی قسمت سے صحرا کی ہوا الجھی

پابند‌ نزاکت تھی نیرنگئ گل چینی
سرخئ‌ گل تر سے ہاتھوں کی حنا الجھی

یا حسن کشش میں جاں اور آپ نے ڈالی ہے
یا شوخئ فطرت ہے در پردہ حیا الجھی

خاموش تجلی کی فطرت میں سمجھتا ہوں
کیوں خرمن دل سے ہی اے برق ادا الجھی

دل میں تری یادوں نے وہ بجلیاں چمکائیں
آنکھوں سے مری آ کر ساون کی گھٹا الجھی

ضامن مری الجھن کے الجھے ہوئے گیسو ہیں
بے وجہ مری جنبشؔ کب طبع رسا الجھی

جنبش خیر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم