غزل
ضبط اور احتیاط سے آگے
عشق کرنا بساط سے آگے
وہ بھلا عشق کس طرح کرتا
نہ گیا انضباط سے آگے
اس کے پہلو میں جو گزارا ہے
ہر وہ پل انبساط سے آگے
اس زمانے میں اب وفا کا چلن
کم ہوا انحطاط سے آگے
دل سے دل کا ملاپ ایسا ہو
روح کے اختلاط سے آگے
ہجر کے دکھ میں خواب قربت کے
عیش سے اور نشاط سے آگے
تم اگر ساتھ دو تو کیا دنیا
ہم چلیں پل صراط سے آگے
عنبرین_خان