MOJ E SUKHAN

عشق نادان ہے تو یوں ہی سہی

عشق نادان ہے تو یوں ہی سہی
ہم پہ احسان ہے تو یوں ہی سہی

دور جاکے ہمیں بھلا دینا
ایک امکان ہے تو یوں ہی سہی

تو محبت کے شہر میں بس کر
گر پریشان ہے تو یوں ہی سہی

تم کو لگتا ہے ہجر سہہ جانا
اتنا آسان ہے تو یوں ہی سہی

سچ کہا پیار صرف دھوکہ ہے
وہ پشیمان ہے تو یوں ہی سہی

زندگی اس کے بازوؤں میں اگر
غم کا عنوان ہے تو یوں ہی سہی

عمر بھر ساتھ اب نہ چھوٹے گا
گر یہ نقصان ہے تو یوں ہی سہی

پاس رہ کر بھی جان کر بھی اگر
ہم سے انجان ہے تو یوں ہی سہی

جاں ہتھیلی پہ لے کہ پھرنا کرن
تو مری جان ہے تو یوں ہی سہی


کرن رباب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم