علاجِ گردشِ لیل و نہار کیسے ہو
اجڑ گیا ہے جو دل پُر بہار کیسے ہو
جو آج دشمنِ جاں بن کے رہ گیا ہے مرا
تعلق اس سے بھلا استوار کیسے ہو
گزر چکے ہیں وہ شائد وفاؤں کے موسم
کسی کے وعدوں پہ اب اعتبار کیسے ہو
ہو جس کو اپنی تب و تاب کا ذرا احساس
نکل کے ذات سے وہ بے کنار کیسے ہو
سمجھ رہا ہے وہ خود کو بلندیوں پہ مقیم
ہم عاجزوں سے بھلا اس کو پیار کیسے ہو
رجب چودھری