MOJ E SUKHAN

غلیظ چیز کہاں اندمال ہوتی ہے

غلیظ چیز کہاں اندمال ہوتی ہے
کسی کے منہ پہ بھی کیچڑ کی کھال ہوتی ہے

کچھ ایسے ذہن کے بونے ہیں میرے حلقے میں
کہ جن کی دوستی دل کا وبال ہوتی ہے

تمہارے ہوتے بہت بے قرار ہوتا ہوں
تمہارے بعد طبیعت بحال ہوتی ہے

میں چٹکلہ تو سنا دوں منافقوں کے بیچ
مگر تمہاری ہنسی پائمال ہوتی ہے

کسی اسیر کی تازہ جھجھک ہوا کے ساتھ
کسی فقیر کی پہلی دھمال ہوتی ہے

ارشاد نیازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم