MOJ E SUKHAN

غم پرستی اُداس لوگوں کی

غم پرستی اُداس لوگوں کی
موج مستی اُداس لوگوں کی

آپ اپنا ہی خون پیتے ہیں
دیکھیں پستی اُداس لوگوں کی

یہاں خوشیاں کسی کو راس نہیں
یہ ہے بستی اُداس لوگوں کی

خواب مہنگے حضور ہیں لیکن
جان سستی اُداس لوگوں کی

لبِ دریا یہ ریت کے ٹیلے
کیا ہے ہستی اُداس لوگوں کی

شمس کرتے رہو گے تم کب تک
سر پرستی اُداس لوگوں کی

شاہ دل شمس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم