MOJ E SUKHAN

فریاد نہیں اشک نہیں آہ نہیں ہے

غزل

فریاد نہیں اشک نہیں آہ نہیں ہے
اے عشق ترا کوئی ہوا خواہ نہیں ہے

گو درد تمنا کو بڑھاتا ہے ترا ذکر
دل پھر بھی ترے نام سے آگاہ نہیں ہے

اے حسن یقیں دیر و حرم کی ہے فضا تنگ
اس در سے پلٹنے کی کوئی راہ نہیں ہے

یہ کس نے اڑائی کہ مجھے عشق ہے تم سے
ہاں تم کو یقیں آئے تو افواہ نہیں ہے

آسائش تن روح کا آزار ہے قیصرؔ
دنیا میں غم عشق سے تنخواہ نہیں ہے

قیصر حیدری دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم