MOJ E SUKHAN

لمحوں کے پرندے ہیں لئے چونچ میں کنکر

غزل

لمحوں کے پرندے ہیں لئے چونچ میں کنکر
سہما سا ڈرا سا ہے کھڑا زیست کا لشکر

اک پھول لب دریا جو ڈالی سے گرا تھا
پانی میں گیا جانئے کس سمت وہ بہہ کر

چبھتا ہے ہر اک لمحہ جو اک خار کی صورت
آنکھوں سے مری چھین لے اب کوئی وہ منظر

سچ یہ بھی کہ دشوار ہے رستہ ترے گھر کا
سچ یہ بھی کہ رستے میں ہے دریا نہ سمندر

تلوار لئے لوگ مرے گھر میں کھڑے تھے
مٹی کا صباؔ فرش پہ ٹوٹا تھا کبوتر

صبا اکرام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم