MOJ E SUKHAN

مجھ کو نہیں معلوم کہ وہ کون ہے کیا ہے

غزل

مجھ کو نہیں معلوم کہ وہ کون ہے کیا ہے
جو سائے کے مانند مرے ساتھ لگا ہے

اک اور بھی ہے جسم مرے جسم کے اندر
اک اور بھی چہرہ مرے چہرے میں چھپا ہے

مہتاب تو آئے گا نہ سیڑھی سے اتر کر
دیوانہ کس امید پہ رستے میں کھڑا ہے

ملنے کی تمنا ہے مگر اس سے ملیں کیا
جس شخص کا اس شہر میں گھر ہے نہ پتا ہے

لکھتا ہوں نئی نظم و غزل جس کے سبب میں
وہ ذوق سخن تو مجھے ورثے میں ملا ہے

میداں میں چلے آؤ تو کھل جائے یہ تم پر
کیا شام کی سرشار ہواؤں میں مزا ہے

سوچا تھا مرے ساتھ چلے گا جو سفر میں
گھر پر وہ مرا خواب حسیں چھوٹ گیا ہے

ہم میرؔ کا دیوان تھے کیا فہم پہ کھلتے
اخبار سمجھ کر ہمیں لوگوں نے پڑھا ہے

کہتے ہیں کہ اس شہر میں ہے دھوم ہماری
دیکھا ہے کسی نے نہ جہاں ہم کو سنا ہے

باہر سے کوئی آج تو خاورؔ کو پکارے
کمرے میں بہت روز سے وہ بند پڑا ہے

بدیع الزماں خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم