MOJ E SUKHAN

مرا خلوص محبت بھی کامراں نہ ہوا

غزل

مرا خلوص محبت بھی کامراں نہ ہوا
وہ ظلم ڈھاتا رہا مجھ پہ مہرباں نہ ہوا

جبین عشق جھکی ہے نہ جھک سکے گی کبھی
برائے سجدہ اگر تیرا آستاں نہ ہوا

ہے بات کیا جو ابھی تک کھلے نہ لالہ و گل
خزاں کے بعد بھی شاداب گلستاں نہ ہوا

تری ہنسی پہ لٹا دیتے چاند تاروں کو
ہمارے زیر اثر آج آسماں نہ ہوا

وہ آئے میرے تصور میں شکریہ ان کا
زہے نصیب مرا جذب رائیگاں نہ ہوا

کسی کے عشق نے وہ حوصلہ دیا مجھ کو
کوئی بھی غم مرے دل پر کبھی گراں نہ ہوا

وہ آشیانہ ہو گلشن ہو یا قفس کشفیؔ
ستم زمانے میں ہم پر کہاں کہاں نہ ہوا

کشفی لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم