MOJ E SUKHAN

مری تلاش کا آخر صلہ کہیں تو ملے

غزل

مری تلاش کا آخر صلہ کہیں تو ملے
تمہارے نقش قدم کا پتا کہیں تو ملے

ترس رہی ہیں امید بہار میں آنکھیں
شجر کی گود میں پتا ہرا کہیں تو ملے

نہ جانیں کب سے ہوں آوارہ تپتے صحرا میں
ہوا کہیں سے بھی آئے گھٹا کہیں تو ملے

اسی تلاش میں جاری ہے زندگی کا سفر
سکون قلب کی خاطر دوا کہیں تو ملے

بتوں کے گھر میں نہ کعبے میں مل سکا بہزادؔ
خدا کے واسطے وہ با خدا کہیں تو ملے

بہزاد فاطمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم