مر گیا ہے سچ جہاں میں اس صدی میں قید ہوں
کیا کروں مجبور ہوں میں بے بسی میں قید ہوں
روشنی پنجرے میں سورج کی کبھی آتی نہیں
ہر گھڑی اے دوستوں میں تیرگی میں قید ہوں
دشمنوں سے تو ابھی آزاد ہو جاؤں مگر
کیا کروں کچھ دوستو کی دوستی میں قید ہوں
حال دل میں کیا بتاؤں کچھ نہیں آتا سمجھ
قید ہوں رنج و الم میں یا خوشی میں قید ہوں
غم نہیں یہ قید ہوں صیاد کے اس جال میں
غم تو یہ ہے میں تری موجودگی میں قید ہوں
چاہتی ہوں سب غریبوں کی مدد کرنا مگر
ہاے سد افسوس کہ میں مفلسی میں قید ہوں
موت ہی آزاد کر سکتی ہے اب "وشمہ” مجھے
پیار کی پنچھی ہوں لیکن زندگی میں قید ہوں
وشمہ خان وشمہ