MOJ E SUKHAN

مضمحل ہونے پہ بھی خود کو جواں رکھتے ہیں ہم

مضمحل ہونے پہ بھی خود کو جواں رکھتے ہیں ہم
ایک سر ہے جس پہ ساتوں آسماں رکھتے ہیں ہم

ہم گریباں چاک لوگوں کو تہی دامن نہ جان
لے قمار عاشقی میں نقد جاں رکھتے ہیں ہم

کوئی تو آخر چلا آئے گا پرسش کے لئے
تو نہ آئے گا تو مرگ ناگہاں رکھتے ہیں ہم

احترام غم سے ہیں سوکھے جزیروں کی طرح
ورنہ ان آنکھوں میں بحر بیکراں رکھتے ہیں ہم

عشق میں ذوق تکلم ہے ہلاکت آفریں
آرزو بھی احتیاطاً بے زباں رکھتے ہیں ہم

مہ وشوں کے عارضوں میں دیکھتے ہیں اپنا عکس
اللہ اللہ اپنا سایہ بھی کہاں رکھتے ہیں ہم

لاکھ ہوں پھیلی ہوئی منزل بہ منزل ظلمتیں
ساتھ اپنے مشعل حسن بتاں رکھتے ہیں ہم

ظہیر کاشمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم