MOJ E SUKHAN

ملے تو کاش مرا ہاتھ تھام کر لے جائے

ملے تو کاش مرا ہاتھ تھام کر لے جائے

وہ اپنے گھر نہ سہی مجھ کو میرے گھر لے جائے

۔

بتان شہر تمہارے لرزتے ہاتھوں میں

کوئی تو سنگ ہو ایسا کہ میرا سر لے جائے

۔

دیا کروں گا یوں ہی تیرے نام کی دستک

مرا نصیب مجھے لاکھ در بدر لے جائے

۔

وہ آدمی ہو کہ خوشبو بہت ہی رسوا ہے

ہوائے شہر جسے اپنے دوش پر لے جائے

۔

مرے قریب سے گزرے تو اہل دل بولے

اٹھا کے کون پرندہ لہو میں تر لے جائے

۔

پلٹ کے آئے تو شاید نہ کچھ دکھائی دے

وہ جا رہا ہے تو عاصمؔ مری نظر لے جائے

لیاقت علی عاصم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم