MOJ E SUKHAN

منزلیں آئیں تو رستے کھو گئے

منزلیں آئیں تو رستے کھو گئے
آبگینے تھے کہ پتھر ہو گئے

بے گناہی ظلمتوں میں قید تھی
داغ پھر کس کے سمندر دھو گئے

عمر بھر کاٹیں گے فصلیں خون کی
زخم دل میں بیج ایسا بو گئے

دیکھ کر انسان کی بیچارگی
شام سے پہلے پرندے سو گئے

ان گنت یادیں میرے ہم راہ تھیں
ہم ہی زریںؔ درمیاں میں کھو گئے

عفت زرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم