MOJ E SUKHAN

مہتاب کیا ہے چہرہٕ انور کے سامنے

مہتاب کیا ہے چہرہٕ انور کے سامنے
کیا شے ہے مشک, زلفِ معطر کے سامنے

اللہ رے یہ شانِ فقیری کی عظمتیں
جھکتے ہیں تاج وَر بھی ترے در کے سامنے

شرما رہا ہے جلوہٕ بدرِ منیر بھی
میرے رسول کے رخِ انور کے سامنے

پیاسا شہید جس نے کیا آل پاک کو
جائے گا کیسے ساقیِ کوثر کے سامنے

ہم پر بھی ہو نگاہِ کرم صاحبِ کرم
کب سے کھڑے ہیں روضہٴ اطہر کے سامنے

جس در سے کوٸ بھی نہیں لوٹا ہے نا مراد
ہم بھی کھڑے ہیں آج اسی در کے سامنے

قرآن میں یہ حکم بھی اللہ نے دیا
آواز اونچی ہو نہ پیمبر کے سامنے

پوری ہو اے خدا یہ رٸیسہ کی آرزو
نعتیں پڑھوں میں روضہٕ سرور کے سامنے

رئیسہ خمار آرزو۔

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم