MOJ E SUKHAN

میری الفت کو بھی جفا سمجھے

غزل

میری الفت کو بھی جفا سمجھے
میں نے کیا سمجھا آپ کیا سمجھے

اس نظر کو نظر کہوں کیسے
پتھروں کو جو آئنہ سمجھے

تھی فضاؤں میں وہ گھٹن کہ لوگ
باد صرصر کو بھی صبا سمجھے

بھول بیٹھا ہو جب خدا کو بھی
آدمی آدمی کو کیا سمجھے

بد گماں ہو گئے وہ جب مجھ سے
میری ہر بات کو گلہ سمجھے

چین لینے دیا نہ اک پل کو
اے غم دل تجھے خدا سمجھے

کوئی تو ہو جہاں میں اے ہاتفؔ
میرے دل کا جو ماجرا سمجھے

ہاتف عارفی فتح پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم