MOJ E SUKHAN

میرے خوابوں کو نگلنے کا ارادہ نہ کرے

غزل

میرے خوابوں کو نگلنے کا ارادہ نہ کرے
کہہ دو سورج سے نکلنے کا ارادہ نہ کرے

اس سے بڑھ کر کوئی محتاج نہیں ہو سکتا
گر کے جو شخص سنبھلنے کا ارادہ نہ کرے

جو ہواؤں کے مزاجوں سے نہیں ہے واقف
میرے ہم راہ وہ چلنے کا ارادہ نہ کرے

گفتگو زہر بھری سن لے جو انسانوں کی
سانپ بھی زہر اگلنے کا ارادہ نہ کرے

اپنی قسمت میں ہے منزل تو خود آ جائے گی
اب جنوں راہ بدلنے کا ارادہ نہ کرے

نیتیں صاف گھٹاؤں کی نہیں ہیں عالمؔ
چاند سے کہہ دو نکلنے کا ارادہ نہ کرے

عالم نظامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم