MOJ E SUKHAN

میں اکثر دل کی بے جا  خواہشوں کی زد میں رہتی ہوں

میں اکثر دل کی بے جا  خواہشوں کی زد میں رہتی ہوں
مگر میں خاندانی ہوں سو اپنی حد میں رہتی ہوں

مرے اطراف میں جو لوگ ہیں سب مجھ سے کہتے ہیں
بلند قامت ہوں لیکن پھر بھی اپنے قد میں رہتی ہوں

میں ہوں آدم کی پسلی سے یقینا ہے کجی مجھ میں
الف کی طرح سیدھی ہوں پر اس کے مد میں رہتی ہوں

وجودِ زن سے یہ دنیا سجی ہے اک حقیقت ہے
مگر پھر بھی نہ جانے کیوں؟ میں اس کی رد میں رہتی ہوں

کبھی دنیا کی آرائش رجھا سکتی نہیں مجھ کو
کہ میں اپنے تخیل میں حصارِ جد میں رہتی ہوں

یہ میرا حسن و رعنائی مجھے تکلیف دیتا ہے
جو بد فطرت ہیں میں ان کی نگاہِ بد میں رہتی ہوں

زبر ہو کر ہوئی ہے زیر بس تیرے لیے تشنہ
میں ساکن ہوں بظاہر پھر بھی تیرے شد میں رہتی ہوں

حمیرہ گل تشنہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم