غزل
میں تیری آنکھ میں رہ کر حجاب ہو جاؤں
تو حرف حرف پڑھے وہ کتاب ہو جاؤں
مرے سوا کبھی تجھ کو لبھا سکے نہ کوئی
میں تیرے واسطے وہ انتخاب ہو جاؤں
تو آسمان کی وسعت میں لے کے جائے مجھے
میں تجھ پہ فخر کروں آفتاب ہو جاؤں
تو بوند بوند سے لذت کشید کرتا رہے
مگر نہ پیاس بجھے وہ شراب ہو جاؤں
وہ اپنی نرم سی پوروں سے گر چھوئے مجھ کو
مہک مہک اٹھوں مثل گلاب ہو جاؤں
تمہاری یاد میں چھوڑوں نہ مے کشی طاہرؔ
مجھے ہے جتنا بھی ہونا خراب ہو جاؤں
طاہر حنفی