MOJ E SUKHAN

میں جو اپنے حال سے کٹ گیا تو کئی زمانوں میں بٹ گیا

غزل

میں جو اپنے حال سے کٹ گیا تو کئی زمانوں میں بٹ گیا
کبھی کائنات بھی کم پڑی کبھی جسم و جاں میں سمٹ گیا

یہی حال ہے کئی سال سے نہ قرار دل نہ سکون جاں
کبھی سانس غم کی الٹ گئی کبھی رشتہ درد سے کٹ گیا

مری جیتی جاگتی فصل سے یہ سلوک باد سموم کا
مری کشت فکر اجڑ گئی مرا ذہن کانٹوں سے پٹ گیا

نہ دیار درد میں چین ہے نہ سکون دشت خیال میں
کبھی لمحہ بھر کو دھواں چھٹا تو غبار راہ میں اٹ گیا

نہ وہ آرزو نہ وہ جستجو نہ وہ رنگ جامۂ بے رفو
بھلا اس وجود کا وزن کیا جو مدار شوق سے ہٹ گیا

نہ وہ کیف شب نہ وہ ماہ شب نہ وہ کاروان غزال شب
جہاں ذکر ہجر و وصال تھا وہ ورق ہی کوئی الٹ گیا

حنیف اسعدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم