MOJ E SUKHAN

میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوں

میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوں
وہ پوچھ رہا ہے کہ کسے ڈھونڈ رہا ہوں

ماضی کے بیاباں میں جو گم ہو گیا مجھ سے
میں حال کے جنگل میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں

گو پیش نظر ایک تماشہ ہے ولیکن
اے وجہ تماشہ میں تجھے ڈھونڈ رہا ہوں

تو ہاتھ جو آتا نہیں اس کا ہے سبب کیا
شاید میں تجھے تجھ سے پرے ڈھونڈ رہا ہوں

چھینا تھا جسے صبح گریزاں کی چمک نے
اس لمحے کو اب شام ڈھلے ڈھونڈ رہا ہوں

ہر اک سے جو کہتا ہوں کہیں عرشؔ کو ڈھونڈو
کیوں اپنے بہانے میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں

عرش صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم