MOJ E SUKHAN

میں نے بھی تہمت تکفیر اٹھائی ہوئی ہے

میں نے بھی تہمت تکفیر اٹھائی ہوئی ہے
ایک نیکی مرے حصے میں بھی آئی ہوئی ہے

مرے کاندھوں پہ دھرا ہے کوئی ہارا ہوا عشق
یہی گٹھڑی ہے جو مدت سے اٹھائی ہوئی ہے

تم تو آئے ہو ابھی دشت محبت کی طرف
میں نے یہ خاک بہت پہلے اڑائی ہوئی ہے

ٹوٹ جاؤں گا اگر مجھ کو بنایا بھی گیا
کوئی شے ایسی مری جاں میں سمائی ہوئی ہے

سرد مہری کے علاقے میں ہوں مصروف دعا
زندہ رہنے کے لئے آگ جلائی ہوئی ہے

قصہ گو اب تری چوپال سے میں جاتا ہوں
رات بھی بھیگ چکی نیند بھی آئی ہوئی ہے

قمر رضا شہزاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم